Neend Ka Nazam- Part 2
Important Notes
🪷* امور خانہ داری میں حسن انتظام (نیند کا نظام) *🪷
(Class notes: Dated 22/4/2026)
💠 انڈیا میں ایک ہسپتال ہے جس میں admission لینے کے بعد آپ دن میں سو نہیں سکتے اور رات کو جاگ نہیں سکتے، یہ اس ہسپتال کا rule ہے۔ ہم جہاں جاتے ہیں، وہاں کے rules بڑے ذوق و شوق سے follow کرتے ہیں، چاہے وہ ہسپتال ہو، دفتر ہو یا سکول ہو. لیکن عجیب بات ہے کہ اللہ تعالی کے لیے ہم کہتے ہیں کہ اللہ کے rules کیوں follow کریں، اپنی مرضی کے rules کیوں نہیں فولو کرسکتے۔ حالانکہ اللہ کا تو ہم پر احسان ہے۔ اس نے نہ صرف ہمیں بنایا، کھلایا، بلکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، سب اسی کا دیا ہوا ہے۔
💠 ہم میں سے ہر ایک اللہ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے، چاہے وہ غریب ہو یا امیر، بیمار ہو یا صحت مند، عقلمند ہو یا کم عقل، دیندار ہو یا بے دین۔ اگر کوئی امیر غریب، اور بیمار صحت مند میں فرق کرنا چاہے، تو صرف اتنا فرق ہوگا کہ امیر نعمتوں میں زیادہ گہرائی تک ڈوبا ہوا ہوتا ہے، اور فقیر اتنی گہرائی تک نہیں ڈوبا ہوا، لیکن ڈوبا ہوا تو ہر کوئی ہے۔
💠 سب سے زیادہ اللہ کی نعمتوں میں وہ شخص ڈوبا ہوا ہے، جس کے اوپر اللہ تعالی نے ہدایت کا راستہ، دینی علوم اور سمجھ کے ذرائع کو کھول دیا ہو، جس کو دینی ماحول ملا ہوا ہو، اور مشائخ کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔ وہ شخص سب سے زیادہ گہرائی میں اللہ تعالی کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ یعنی اس کے اوپر نعمتوں کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔
💠 جس کے پاس جو نعمت ہے، وہ اسی فکر میں رہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا ویسا شکر ادا نہیں کیا جیسا کرنا چاہیے تھا۔ ہمیں ساری زندگی بس اسی فکر کے ساتھ گزارنی ہے، پھر اس کے بدلے میں اللہ رب العزت نے ہمارے لیے جنت بنا کے رکھی ہے۔ وہاں تو یہاں سے بھی زیادہ اللہ کی نعمتوں میں ہم ڈوبے ہوئے ہوں گے، لیکن فرق یہ ہوگا کہ جنت میں ان نعمتوں کا حساب کتاب نہیں ہوگا۔ دنیا میں ہمیں کفران نعمت سے بچنا ہے، اور دنیا کی نعمتوں پر حساب کتاب بھی ہوگا۔
💠 اللہ کے نظام کے برعکس شیطان کا بنایا ہوا نظام ہے۔ شیطان نے بنی آدم کو برباد کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اور وہ اللہ کے نظام کے خلاف کام کروا کر بنی آدم کو برباد کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اللہ تعالی نے مرد کا ستر مختصر بنایا ہے، تو شیطان عام طور پر مرد کو پورے کپڑے پہنے پر مائل کرتا ہے، اور اللہ تعالی نے عورت کا ستر پورا بدن بنایا ہے، سوائے ہاتھ اور چہرے کے، تو شیطان عورتوں کو کم سے کم کپڑے پہنے پر مائل کرتا ہے۔ چنانچہ شیطان کی مان کر چلنے والوں کے ماحول میں یہ عام نظر آتا ہے۔
💠 جب کسی سے دشمنی ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے، جیسے نبی کریم ﷺ کو اللہ کی محبت کی وجہ سے کفر اور کافری یعنی اللہ کی نافرمانی سے دشمنی تھی، تو آپ ہر کام میں یہودیوں اور مشرکین کی مخالفت کرتے تھے۔
💠 دن اور رات کے نظام کا بھی یہی معاملہ ہے۔ اللہ تعالی دن میں جاگنے کا اور رات کو سونے کا حکم دیتے ہیں، تو شیطان اس نظام کے برعکس ہم سے کام کروانے کے لیے کوئی بھی بہانہ بناتا ہے، چاہے راتوں کو جاگ کر عبادت کرنا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ شیطان کو پتہ ہے کہ جب رات کو جاگیں گے، تو دن میں سوئیں گے۔
💠 ہمارا دین رات کو جاگ کر عبادت کرنا نہیں سکھاتا۔ جو خاص لوگ ہوتے ہیں، یا محافظ پہرےدار قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ان کے لیے رات کو جاگنا ضروری ہوتا ہے، اور وہ exception ہوتے ہیں rule نہیں۔
💠 Exceptions can never be made the rule۔
💠 “امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر پڑھتے تھے”، اگر یہ روایت صحیح بھی ہے، کیونکہ ایسی روایات قرآن و حدیث کی طرح confirmed تو نہیں ہوتیں، تو بھی وہ تو امام ابو حنیفہ تھے، جو کہ فقہ کے امام اعظم تھے، تو اگر وہ exception نہیں کہلائیں گے تو اور کون کہلائے گا؟ امام ابو حنیفہ کی کسی عادت کو ہم پورے دین پر قیاس نہیں کر سکتے۔
💠 رات کو جاگ کر عبادت کرنے سے مراد رات کے آخری پہر میں جاگنا ہے، اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ حقوق اللہ، یعنی فجر قضا ہونے کا ڈر نہ ہو، اور حقوق العباد بھی اس سے متاثر نہ ہوتے ہوں۔
🔹اللہ چاہتے ہیں کہ تم یہ نہ سمجھو کہ سارے کام تم نے کرنے ہیں۔ جب نیند آئے تو تم جا کے سو جاؤ، میں ہوں کام کرنے والا۔ اللہ تعالی ہمیں روز یاد دلاتے ہیں کہ تم اپنے ذمے حقوق کو پورا کرتے ہوئے جتنے مزید کام کر سکتے ہو بس اتنا کرو۔ اللہ تعالی دین والے کو بھی یہ بات یاد دلاتے رہتے ہیں کہ انسانوں کو ہدایت میں دے رہا ہوں جو ھدایت کے لائق خود کو بناتا ہے۔ اگر تم سمجھنے لگو گے کہ تم لوگوں کو دین پر لا رہے ہو تو میں تمہاری غلط فہمی دور کروں گا تمہیں سلادوں گا تاکہ تمہیں پتہ چلے کہ اصل کام کرنے والا تو اللہ ہے۔ چنانچہ نیند اللہ کی ایک نشانی ہے اس سے ایک ایمان والے کو اللہ کی عظمت یاد آتی ہے۔
🔹پھر آگے زندگی مختلف سائیکلز کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ نیند کے بارے میں اگر اپ سمجھنا چاہتے ہیں تو ذہن میں رکھیں کہ ہماری زندگی مختلف سائیکلز میں گزر رہی ہے
1۔دن رات کا سائیکل: یعنی دن طلوع ہوتا ہے، دوپہر ہوتی ہے پھر سورج غروب ہوتا ہے پھر رات آجاتی ہے اور پھر سورج طلوع ہو جاتا ہے تو دن رات کے سائیکل میں ہماری پوری زندگی گزرتی چلی جا رہی ہے۔
🔹کچھ لوگ frustrate ہو کے بولتے ہیں کہ میں تو ایک ہی سائیکل میں گھومے چلے جا رہی ہوں اگر گناہ کے سائیکل میں نہیں گھوم رہی تو itself سائیکل میں گھومنا کوئی بری بات نہیں ہے کیونکہ اللہ نے ہماری زندگی کو ایک سائیکل میں ہی بنایا ہے۔ ہمیں جو نیکیاں کرنی ہے وہ اس سائیکل میں ہی رہ کر کرنی ہیں۔ اس سائیکل سے باہر نکلنے کی کوشش کرنا کوئی اچھی کی بات نہیں ہے۔ ممکن بھی نہیں۔
2۔ موسم کا سائیکل: اسی طرح اگر آپ دیکھیں تو موسم کا بھی ایک سائیکل ہے۔ سردی ہوتی ہے پھر بہار آجاتی ہے پھر گرمی آتی ہے پھر خزاں آتی ہے اور پھر سے سردی آجاتی ہے۔ اس سیزن کے سائیکل میں ہماری پوری زندگی گزر رہی ہے انہی سیزنز کے اندر ہم نے اپنے سارے کام کرنے ہیں اگلے سال ہمارے لئے کوئی نیا سائیکل نہیں ایجاد ہوگا۔
3 ۔چاند کا سائیکل: اگر ہم چاند پر غور کریں تو اس کا بھی ایک سائیکل ہے ایک وقت ہوتا ہے کہ چاند باریک نظر اتا ہے اسے crescent کہتے ہیں اس سے پہلے چاند بالکل ڈارک ہوتا ہے تو اسے New Moon کہتے ہیں۔ کچھ لوگ جنہوں نے زیادہ سائنس پڑھ لی لیکن دین تھوڑا سمجھا تو انہوں نے سائنسدانوں سے New Moon کی تاریخ لی اور کہا کہ رمضان شروع ہو گیا ہے حالانکہ چاند ابھی نظر نہیں آیا ہوتا۔ اس طرح سے مسلمان یورپ امریکہ میں کئی سال غلط فہمی کا شکار رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت جی جیسے حضرات کو استعمال فرماکے اس مسئلہ کو حل فرمایا۔ ہمارے نزدیک نیو مون کی تعریف بالکل مختلف ہے اور وہ وہ ہے جو نبی ﷺ نے فرمائی کہ جب چاند نظر آتا ہے تب سے نیا مہینہ شروع ہوتا ہے۔ پھر 13، 14 اور 15 تین ایسی راتیں ہوتی ہیں کہ جن میں چاند بھرپور ہوتا ہے جوبن پر ہوتا ہے جوبن کا مطلب ہوتا ہے جب چاند بالکل اپنی مکمل حالت میں ہوتا ہے، اگرچہ کہ حقیقت یہ ہے کہ اپنی جوبن کی حالت میں بھی چاند آدھا تاریک ہی ہوتا ہے۔ (سورج کی مخالف سمت میں)
🔹ایک خاص قسم کا ہرن ہوتا ہے جس کے ناف میں اللہ نے خوشبو رکھی ہے جس کو مشک کہتے ہیں اور یہ خوشبو سال کے ایک مخصوص موقع پر پھوٹتی ہے۔ اپنی اس کو سونگھ کر ہرن اچھلنا شروع کر دیتا ہے تو اس وقت کہتے ہیں کہ ہرن اپنے جوبن پر ہے، یعنی خوشی کی انتہا پر ہے۔
🔹ایّامِ بیض میں روزہ رکھنا سنت عمل ہے۔ یہ نفلی روزے ہوا کرتے تھے۔ رمضان کے فرض روزے انتہائی آسان روزے ہوتے ہیں چاہے سردیوں کے چھوٹے ہوں یا گرمیوں میں لمبے روزے ہوں۔ کیونکہ روزانہ روزہ رکھنے سے ہمارا جسم انکا عادی ہو جاتا ہے۔ تین دن کے اندر اندر ہمارا جسم کسی بھی چیز کا عادی ہو سکتا ہے۔
🔹 ایک صاحب حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ سے ملنے کے لیے آئے۔ پہلے تھوڑی دیر باہر ہی انکے پاس چھوٹے صاحبزادہ صاحب بیٹھے تو وہ اندر آ کے کہنے لگے ابو جی یہ صاحب جو آئے ہوئے ہیں یہ پچھلے 35 سال سے روزانہ روزہ رکھ رہے ہیں۔ تو اس پر حضرت جی نے فرمایا کہ یہ کون سی بڑی بات ہے، ان سے بولو کہ ایک دن روزہ رکھیں اور ایک دن افطار کریں (جسکو صوم داؤدی بھی کہتے ہیں)۔ اور افطار کرنے سے مراد دوپہر کا کھانا کھائیں، مغرب کے وقت افطار کرنا نہیں۔ جب ان صاحب کو پتہ چلا کہ حضرت جی نے یہ فرمایا ہے تو کہنے لگے کہ یہ تو بہت مشکل ہے اس لیے کہ اب پچھلے 35 سالوں سے ان کے جسم کو عادت ہو گئی تھی روزانہ روزہ رکھنے کی۔
💠 اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالی نے فرائض کو ادا کرنا بہت آسان بنایا ہے۔ اصل مشکل ہمارے نفس پر حکم کا ماننا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم حکم مان کے (اخلاص کے ساتھ اس پر) عمل کی کوشش شروع کر دیتے ہیں تو ادائیگی آسان ہوجاتی ہے۔ اخلاص نہ ہو یا وعدوں پر اعتماد یعنی ایمان ہی نہ ہو تو ادائیگی آسان نہیں ہوتی۔ پھر بہت مشکل بہت مشکل کہ کے عمل چھوڑ دیتے ہیں

