Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 54
Aayat: 19 -26 Surah Al Ma'idah, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:
Important Notes
🕋 درسِ قرآن: (سورہ المائدہ آیات 19 تا 26 ) ۲۷ اپریل ۲۰۲۶
اس درس میں ہمیں اپنے دین کے بارے میں جن سوالات کے جواب اللہ کے فضل سے ملے:
📍اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم الشان میں نبی علیہ السلام کی قوم کے بارے میں کون سا لفظ استعمال فرمایا ہے؟ اس لفظ کا دوسرا اہم معنی کیا ہے؟ اور وہ قوم کس چیز سے متاثر نہیں تھی؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی قوم کے لیے لفظ “اُمِّیّین” (اُمّی قوم) استعمال فرمایا۔اُمّی کا ایک معنی تو یہ ہے کہ پڑھنا لکھنا نہ جاننے والے اور دوسرا اہم معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو دوسری تہذیبوں کے اثر سے پاک اور سادہ ہوں۔ یہ قوم دوسری بڑی تہذیبوں جیسے یونانی، رومی، فارسی وغیرہ کے گہرے اثرات سے متاثر نہیں تھی، یعنی ان پر بیرونی ثقافت کا اثر نہیں پڑا تھا۔
📍اس قوم کی اصلاح کیوں اتنی مشکل تھی؟ اصلاح کے بعد ان میں کیسی تبدیلی واقع ہوئی؟
جواب: اس قوم کی اصلاح بہت مشکل تھی کیونکہ وہ جہالت اور گمراہی میں مبتلا تھی۔ یہ اُمّی قوم تھی، بت پرستی عام تھی اور دین و علم کی روشنی موجود نہ تھی۔ لوگ ضدی اور بے قابو طبیعت کے تھے، اس لیے ایسی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح آسان کام نہیں تھا۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی صحبت اور تربیت نے ان میں حیران کن تبدیلی پیدا کر دی۔ وہ علم، عمل، اخلاق اور معاشرت میں دنیا کے لیے نمونہ بن گئے۔ جاہل لوگ بدل کر استاد اور رہنما قوم بنے اور تھوڑے ہی عرصے میں دنیا کی قیادت سنبھال لی۔
📍 قرآن مجید کو چھوڑ کر صرف دوسری دینی کتابوں پر توجہ مرکوز کرنے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ اور ہمیں اس سے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: قرآنِ مجید میں بار بار اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے، یعنی ہر بات میں توجہ اللہ کی طرف مبذول کروائی جاتی ہے۔ جبکہ دوسری دینی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر قرآن کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، کیونکہ وہ انسانوں کی لکھی ہوئی ہوتی ہیں، اس لیے ان میں زیادہ توجہ واقعات اور شخصیات پر ہوتی ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قرآنِ مجید کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہدایت اور رہنمائی اصلا قرآن ہی سے ملتی ہے۔ دوسری کتابیں فائدہ مند ضرور ہیں، لیکن قرآن کو ہمیشہ ترجیح اور بنیاد بنانا ضروری ہے۔
📍درسِ نظامی کی تعلیم کی ترتیب میں ہمیں کون سی ایسی بات نظر آتی ہے جو مندرجہ بالا سوال کے جواب کی دلیل بنتی ہے؟
جواب: درسِ نظامی میں قرآنِ مجید کی تعلیم ابتدا ہی سے اور مکمل طور پر دی جاتی ہے، جبکہ حدیث کی بڑی کتابیں بعد کے سالوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہمارے اکابر نے قرآنِ مجید کو تعلیمی سلسلہ میں بنیادی اور مقدم حیثیت دی۔
📍جسمانی اور روحانی علاج میں کیا کیا مماثلتیں پائی جاتی ہے؟ کس صورت میں یہ مکمل (one-to-one correspondence) مطابقت نہیں رکھتیں؟ روحانی علاج میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟
جواب: جیسے جسمانی ڈاکٹر جسم کا علاج کرتا ہے، ویسے ہی روحانی ڈاکٹر
(یعنی شیخ ) روح کا علاج کرتا ہے۔ جسمانی اور روحانی دونوں ہی علاجوں میں تقریباً ہر ہر چیز میں ہی مماثلت پائی جاتی ہے، مثلاً جیسے وہاں جسمانی علاج میں بھی ڈاکٹر، دوا، احتیاط، follow up، اور وائرس وغیرہ ہوتے ہیں تو ویسے ہی یہاں روحانی علاج میں بھی ساری یہی چیزیں پائی جاتی ہیں ۔ہاں مگر صرف ایک بہت واضح فرق پایا جاتا ہے :
جسمانی بیمار خود ڈاکٹر کے پاس بھاگا بھاگا جاتا ہے، مگر روحانی بیمار خود ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا چاہتا بلکہ اِس کو خوب سمجھانا پڑتا ہے کے تم بیمار ہو مگر یہ باور کروانا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے۔ حتی کہ جتنا زیادہ بیمار ہو، اتنا ہی ماننے سے انکار کرتا ہے اور روحانی ڈاکٹر کو بہت جتن کرنے پڑتے ہیں مریض کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لئیے کہ آپ روحانی بیمار ہیں اور آپ کو علاج کی ضرورت ہے۔
یہاں ہمارے لئیے سوچنے کی بہت اھم بات یہ ہے کہ اگر ہم نے اپنا روحانی علاج کروانے کی نیت اور کوشش نہیں کری اور گناہوں میں ہی لگے رہے اور اِس جُرم عظیم کی وجہ سے اللہ تعالى نے اگر ایمان ہی سے محروم کر دیا تو ہمارا کیا ہوگا؟ اس لیے اپنا روحانی علاج کروانا بہت ضروری ہے۔ یاد رکھیں کے ہم اپنا علاج خود نہیں کر سکتے جیسے جسمانی بیماری کا علاج جسمانی ڈاکٹر نے کرنا ہے بالکل ویسے ہی روحانی بیماری کا علاج روحانی ڈاکٹر نے کرنا ہے ۔
نوٹ: اس نہایت اہم نکتے کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے کلاس کی ریکارڈنگ ضرور سنیں۔ یہ خاص بات ریکارڈنگ کے 13:20 سے 20:00 منٹ تک بیان کی گئی ہے۔
📍اسی تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ کون سا ہے جو ایمان لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے؟
جواب: سوچیں ایک ڈاکٹر مرتے ہوئے مریض کا علاج کرے، اور وہاں پر کرے جہاں پر نا تو آلات علاج موجود ہوں اور نا ہی دوا موجود ہو، اور پھر وہ مریض نہ صرف ٹھیک ہو جائے بلکہ خود ماہر ڈاکٹر بھی بن جائے ۔ تو اس ڈاکٹر کے کمال میں کہ جس نے علاج کیا کیا شک رہے گا؟ بالکل ایسے ہی آپ ﷺ نے زمانۂ فترت کے بعد، جب ہر طرف کفر کا اندھیرا تھا، ایسی تعلیم اور تربیت کری کہ اس جیسی مثال پہلے کبھی نہیں ملی! اگر انسان غور کرے تو صرف ایک یہ نقطہ بھی کسی معجزہ سے کم نہیں اور آپ ﷺ پر کامل اعتماد یعنی ایمان لانے کے لیے کافی ہے ۔
📍انبیاء علیہم السلام اپنی قوم کو کس انداز میں پکارتے ہیں؟ اس سے کون سی بات واضح طور پر سامنے آتی ہے؟
جواب: موسیٰ علیہ السلام بار بار فرماتے: ”یَا قَوْمِ“ اے میری قوم..اے میری قوم ۔ اسی طرح ہمارے نبی کریم ﷺ بھی فرماتے: ”اُمَّتی اُمَّتی“، اور قیامت کے دن بھی یہی فرمائیں گے میری اُمت ۔۔میری اُمت ۔ ہر نبی اپنی اُمَّت کا سچا خیر خواہ ہوتا ہے، اور ایسے ہی بہت اپنائیت سے مخاطب کرتا ہے۔
📍بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر قومِ جبارین کے واقعے میں، خوشخبری دیے جانے کے باوجود، کون سی شرط عائد کی؟ اس کی آج کے دور سے کیا مطابقت ہے جو ہم پر لاگو ہوتی ہے؟ ہمیں اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے؟
جواب: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم! ارضِ مقدسہ میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے…یعنی اللہ تعالیٰ حکم کے ساتھ خوشخبری بھی دے رہے تھے، مگر بنی اسرائیل نے اس پر بھی شرط لگا دی۔ کہنے لگے: اے موسیٰ! وہاں جبار قوم رہتی ہے، ہم ہرگز داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہم یہ واقعہ اپنی اصلاح اور ہدایت کے لئیے صحیح سے سمجھیں تاکہ بنی اسرائیل جیسا رویہ نہ اپنائیں۔ آج ہم بھی اللہ تعالى کے حکم اور وعدے پر اپنی شرطیں لگاتے ہیں کہ پہلے حالات ہمارے مطابق ہوں پھر ہم حکم ماننے کی سوچیں گے۔ آج ہم بھی اکثر اللہ کے وعدوں سے زیادہ میڈیا اور ظاہری حالات پر اعتماد کرتے ہیں.(اللہ تعالیٰ ہمارے اس عظیم جرم کو معاف فرمائے اور ہمیں اس روش سے سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔)
📍بنی اسرائیل کس لہجے میں اپنے نبی سے بات کرتے تھے؟ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے کیا عرض کیا؟ اور اس کے نتیجے میں ان کا دنیا میں کیا انجام ہوا؟ اللہ تعالٰی نے حضرت موسی علیہ السلام کو کیسے تسلی دی؟
جواب: بنی اسرائیل نے بہت بے ادبی کے لہجے میں بات کی اور کہنے لگے: تم اور تمہارا رب جاؤ اور قتال کرو، ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے رب! میرا اختیار تو صرف اپنی ذات اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام پر ہی ہے۔ یعنی جنہیں اللہ تعالیٰ نے نفسِ مطمئنہ عطا فرمایا ہو وہی بات مانتے ہیں۔ پھر دعا کی کہ ہمارے اور فاسق لوگوں کے درمیان جدائی فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس سال تک وادیٔ تیہ میں بھٹکنے کی سزا دی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بہت دکھ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ آپ ان نافرمان لوگوں پر زیادہ افسوس نہ کریں۔
📍اللہ پاک نبی کو اپنے اور بندوں کے درمیان کیا بنا کر بھیجتے ہیں؟
جواب: دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ نے نبی کو رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ حضرت جی رحمہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ جب پانچ ہزار وولٹ کا کرنٹ آ رہا ہو تو اسے فائدہ مند بنانے کے لیے ٹرانسفارمر لگایا جاتا ہے۔ اگر ٹرانسفارمر نہ ہو تو پانچ ہزار وولٹ کے کرنٹ سے براہِ راست واسطہ ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔ چنانچہ نبی بھی اللہ اور بندے کے درمیان واسطہ اور ذریعۂ رحمت ہوتے ہیں۔ نبی بندوں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں اور انہیں اپنے واسطے کے ذریعے اللہ سے جوڑتے ہیں۔ اسی طرح شیخ / پیر کا کام بھی یہی ہوتا ہے۔ شیخ بھی سالک اور اللہ کے درمیان رہنمائی اور آسانی کا ذریعہ بنتے ہیں، یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے اور دین کے راستے کو آسان کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
ان سوالات کے جوابات کے لیے اس تربیتی تفسیر کلاس کی ریکارڈنگ سنیے:

